گجرات: ہاردک پٹیل کی گرفتاری اور رہائی، کئی علاقوں میں کرفیو

گجرات: ہاردک پٹیل کی گرفتاری اور رہائی، کئی علاقوں میں کرفیو
گجرات: ہاردک پٹیل کی گرفتاری اور رہائی، کئی علاقوں میں کرفیو بھارتی ریاست گجرات میں پٹیل کمیونٹی کو بہتر تعلیم اور ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کی تحریک کی قیادت کرنے والے ہاردک پٹیل کو حراست میں لینے اور پھر رہا کیے جانے کے بعد کئی علاقوں سے تشدد کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

پر تشدد واقعات کے پیش نظر بعض علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

گجرات میں پر تشدد واقعات کے پیش نظر انتظامیہ نے ریاست کے تمام تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا حکم جاری کیا جبکہ پٹیل کمیونٹی نے بدھ کو گجرات بند کی اپیل کی ہے۔

پٹیل تحریک کے حامیوں نے تقریبا 50 بسوں اور دیگر گاڑیوں میں آگ لگا دی۔ تشدد میں اضافے کو روکنے کے لیے حکومت نے موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کو بند کر دیا ہے۔

گجرات سے نامہ نگار انکر جین نے بتایا ہے بدھ کی صبح دو تین بجے کے بعد تشدد میں کمی آنے کی بات کہی جا رہی ہے تاہم انتظامیہ نے موبائل اور انٹرنیٹ کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے قبل ہاردک پٹیل کے حامیوں نے کئی جگہ توڑ پھوڑ کی اور کچھ گاڑیوں کو آگ بھی لگا دی۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان کئی علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں جبکہ پولیس نے صورت حال کو کنٹرول میں کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

صورت اور مہسانا میں کرفیو نافذ کر کے صورت میں فوج کو بلایا گیا جبکہ احمد آباد میں بی ایس ایف (بارڈر سکیورٹی فورس) کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

ہاردک پٹیل کے ساتھی اور تحریک کمیٹی کے ترجمان چراغ پٹیل نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے خواتین اور بچوں سمیت کئی مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

وزیر اعلی نے لوگوں سے پر امن رہنے اور تحمل کی اپیل کرتے ہوئے عوام سے افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی ہے۔

Comments are closed.