گجرات فسادات میں ہلاکتیں آٹھ، پانچ شہروں میں کرفیو

گجرات فسادات میں ہلاکتیں آٹھ، پانچ شہروں میں کرفیو
گجرات فسادات میں ہلاکتیں آٹھ، پانچ شہروں میں کرفیو بھارت کی ریاست گجرات میں تشدد میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے جبکہ ریاست کے پانچ شہروں میں کرفیو نافذ ہے۔

اس کے علاوہ کئی موبائل فونز پر ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ کو بند کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ نوساري اور لنک میں بدھ سے کرفیو نافذ ہے۔

ریاست میں منگل کو پٹیل برادری کو بہتر تعلیم اور ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کی تحریک کی قیادت کرنے والے نوجوان ہاردک پٹیل کی گرفتاری اور رہائی کے بعد کئی علاقوں میں پرتشدد واقعات پیش آئے تھے۔

دوسری طرف ہاردک پٹیل نے اموات کے لیے ’ذمہ دار‘ پولیس اہلکاروں کو 48 گھنٹے کے اندر اندر معطل کرنے اور ہلاک ہونے والوں کے خاندان کو 30-30 لاکھ روپے معاوضہ دیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے کسانوں سے اپیل کی ہے وہ شہروں میں دودھ اور سبزیوں کی سپلائی بند کر دیں۔

ریاست میں سکیورٹی کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے حکومت نے فوج کو بلا لیا تھا۔
گذشتہ رات صورت میں زخمی ہوئے ایک پولیس اہلکار کی موت ہو گئی تھی۔ وہیں بناسكاٹھا میں دو متاثرہ خاندانوں نے ہسپتال سے لاش لینے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے اس کی موت کے لیے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔

صورت میں بدھ کی رات لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور مظاہرین نے ایک شاپنگ مال میں توڑ پھوڑ بھی کی۔

وہیں واپی میں ایک بس جلانے کا واقعہ بھی سامنے آیا ہے۔ اس کے علاوہ ریل پٹڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے جس کی وجہ سے دہلی سے احمد آباد آنے والی گاڑیوں کو روکنا پڑا۔

Comments are closed.