سکردو گینگ ریپ کیس میں ملزمان کو سزائے موت

سکردو گینگ ریپ کیس میں ملزمان کو سزائے موت
سکردو گینگ ریپ کیس میں ملزمان کو سزائے موت پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ضلع سکردو میں انسداد دہشت گردی کے عدالت نے گینگ ریپ کے دو ملزمان کو سزائے موت کا حکم سنایا ہے۔

عدالت نے ملزمان کو 34 سال قید اور دو دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی ہیں۔

سکردو میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج راجہ شہباز خان نے 34 صفحات پر مشتمل کیس کا تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان شکیل احمد اور احمد حسین عباس ٹاؤن سکردو کو گواہوں اور شواہد کی بنیاد پر اے ٹی سی ایکٹ سیکشن 34 اور پی پی سی-7 ای کے تحت سزائے موت کا حکم سنایا ہے۔

سیکشن 377 کے تحت دس سال قید اور سیکشن 363 کے تحت سات سال کی قید اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم بھی دیا ہے۔

عدالت نے سیکشن 392 پی پی سی-7 ایچ کے تحت دس سال قید اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ اور سیکشن 505 پی پی سی-7 کے تحت سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ملزمان کو یہ حق دیاگیا ہے کہ وہ آئندہ 15 روز میں سزا کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

بلتستان ویمن فورم کی صدر ثریا منی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’عدالت کا فیصلہ انتہائی خوش آئند ہے اور ہم اس سے بہت مطمئن ہیں اور اس فیصلے سے علاقے کی بچیاں خود کو محفوظ تصور کررہی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’لیکن اس قسم کے واقعات کے خلاف مزید اقدامات کی بھی ضرورت ہیں کیونکہ اس قسم کے واقعات سے علاقے کے بچیوں اور خواتین کے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

ان کے مطابق گلگت بلتستان میں خواتین کو جنسی طور پر حراساں کیے جانے کے حوالے سے بل پاس تو ہوا ہے تاہم ان پر تا حال عمل درآمد نہیں کیاجارہا ہے۔

Comments are closed.