سندھ میں دو ماہ میں کرپشن کے الزام میں 52 افسران گرفتار

سندھ میں دو ماہ میں کرپشن کے الزام میں 52 افسران گرفتار
سندھ میں دو ماہ میں کرپشن کے الزام میں 52 افسران گرفتار
پاکستان کے صوبے سندھ میں گذشتہ دو ماہ میں صوبائی محکموں میں کرپشن کے الزام میں 52 افسران کو گرفتار کیا گیا ہے اور 72 مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔
اتوار کو انسداد بدعنوانی کے صوبائی ادارے اینٹی کرپشن اسٹیبلیشمنٹ کے چیئرمین ممتاز علی شاہ نے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ملاقات کی۔ انھوں نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ محکمے نے 209 انکوائریاں شروع کی ہیں۔
سندھ میں رینجرز، قومی احتساب بیورو اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی کارروائیوں اور گرفتاریوں کے بعد صوبائی محکمہ اینٹی کرپشن حرکت میں آیا۔
یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ یہ واضح کرچکے ہیں کہ صوبائی محکموں میں کرپشن کی تحقیقات صوبائی معاملہ ہے۔
وزیر اعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق چیئرمین اینٹی کرپشن ممتاز علی شاہ نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ قومی احتساب بیورو اور ایف آئی اے نے لینڈ، ریونیو اور لوکل گوریمنٹ میں کرپشن، زمین کی غیر قانونی اور دہری الاٹمنٹ اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں سے متعلق تحقیقات انسدادِ بدعنوانی کے صوبائی ادارے کو ارسال کرنا شروع کردی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ محکمے کو اس وقت تک 40 انکوائرائیاں موصول ہوئی ہیں جن کی چھان بین کے لیے دو رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔

Comments are closed.