ریحام اب سیاست نہیں کریں گی

ریحام اب سیاست نہیں کریں گی
ریحام اب سیاست نہیں کریں گی
خیبر پختونخوا میں کوئی عہدہ نہیں لیں گی اور انہیں کوئی سرکاری پروٹوکول بھی نہیں دیا جائے گا۔ ریحام پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر انتخابات بھی نہیں لڑیں گی۔‘

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی بیگم اور ٹی وی اینکر ریحام خان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلہ آج عمران خان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری ہوا۔

لیکن انہیں ایسا کیوں کرنا پڑا؟

شادی کے بعد سے ریحام خان پاکستان تحریکِ انصاف کی مختلف تقاریب کا لازمی حصہ بن چکی تھیں۔

لیکن حال ہی میں ہری پور کے قومی حلقے این اے 19 میں پی ٹی آئی کی پاکستان مسلم لیگ کے ہاتھوں بھاری شکست کے بعد مختلف حلقوں خصوصاً پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے ریحام خان پر شدید تنقید کی جا رہی تھی اور ان پر پارٹی کے معاملات میں مداخلت کا الزام بھی لگایا جا رہا تھا۔

اس کے علاوہ ریحام خان پر سرکاری پروٹوکول استعمال کرنے پر بھی گاہے بگاہے تنقید کی جا رہی تھی۔

مثال کے طور پر انتخاب عامر نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ’پی ٹی آئی ہری پور میں شکست کھا گئی۔ کیا یہ ریحام خان کی سیاسی اپیل کو مسترد کیے جانے کے مترادف نہیں؟ اس سے پہلے کہ ان کا سیاسی کیریئر اڑان بھر سکتا۔‘

آمنہ خان نے لکھا کہ ’مان لیں کہ عمران خان نے بھی غلطی کی۔ آخر کیوں ریحام خان کو ہری پور انتخابی مہم کے لیے جانے دیا؟ یہ پی ٹی آئی کے نظریات کے خلاف ہے۔ انہیں سمجھنا چاہیے۔‘

سلمان بشیر نے لکھا کہ ’ہری پور میں ریحام خان کا شو لگانے سے کام نہیں چلا۔ سمجھ جانا چاہیے کہ یہ سیاست ہے ٹی وی شو نہیں۔‘

اس قسم کی تنقیدی ٹویٹس میں پی ٹی آئی اور عمران خان پر موروثی سیاست کو بڑھاوا دینے کے الزامات بھی لگائے گئے۔

ڈان کے میگزین ایڈیٹر ضرار کھوڑو نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ صرف ہری پور کا ردِ عمل نہیں تھا بلکہ یہ اُس منافقت پر بھی حملہ تھا جو موروثی سیاست کے حوالے سے ریحام خان کے سیاسی مصروفیات کی صورت میں سامنے آتی تھی۔‘

ضرار نے مزید کہا کہ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ’یہ مخصوص پی ٹی آئی کی قربانی کا بکرا بنانے والی پالیسی ہے۔ چونکہ آپ اپنی پالیسیوں کی وجہ سے مسلسل ضمنی انتخابات ہارے ہیں مگر اسے تسلیم کرنا مشکل کام ہے تو جو آسان کام ہے وہ یہی ہے کہ آپ سارا ملبہ ایک بندے یا بندی پر ڈال دیں۔ اور یہاں یہیں لگتا ہے۔‘

آج اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے کہا کہ ’مجھے این اے 19 کے ضمنی انتخاب کے بعد ریحام خان پر تنقید پر شدید صدمہ ہوا ہے۔ ریحام وہاں صرف امیدوار کے شدید اصرار پر انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لیے گئی تھیں۔‘

انہوں نے مزید لکھا کہ ’یہ بات واضح کر دوں کہ ریحام نے پی ٹی آئی کی تقریبات میں شرکت پی ٹی آئی کے اراکین کے مسلسل اور پرزور اصرار پر کی، خصوصاً خواتین اراکین کے اصرار پر۔‘

پارٹی میں اپنی اہلیہ کے سیاسی مستقبل پر فیصلہ کرتے ہوئے عمران خان نے یہاں تک کہہ دیا کہ مستقبل میں وہ کسی پارٹی تقریب میں حصہ نہیں لیں گی۔’ریحام خان کے پاس بہت سارا کام خصوصاً بے گھر بچوں کے حوالے سے کام۔ مستقبل میں وہ پی ٹی آئی کی کسی بھی تقریب میں شرکت نہیں کریں گی۔‘

عمران خان کے جواب میں ریحام خان کا کہنا تھا کہ ’میرا اور خان کا ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان ترقی کرے۔ وہ اس کے لیے اپنی سیاسی پارٹی چلاتے ہیں اور میں رضاکارانہ طور پر بچوں کی تعلیم کے لیے کام کرتی ہوں۔ میں نے پی ٹی آئی کے مقصد کی حمایت اس لیے کی کیونکہ اس کے لیے میرے شوہر نے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے۔

Comments are closed.