خیبر ایجنسی میں تحصیل ہیڈکوارٹر کے گیٹ پر خودکش دھماکہ

خیبر ایجنسی میں تحصیل ہیڈکوارٹر کے گیٹ پر خودکش دھماکہ
خیبر ایجنسی میں تحصیل ہیڈکوارٹر کے گیٹ پر خودکش دھماکہ پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود کے انتظامی ہیڈکوارٹر کے باہر ہونے والے خودکش بم دھماکے میں دو خاصہ داروں سمیت تین افراد ہلاک اور30 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

ادھر کالعدم تحریکِ طالبان کے ترجمان محمد خراسانی نے میڈیا کو ارسال کیے گئے تحریری بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تنظیم کی جانب سے دو خودکش حملہ آوروں نے تحصیل ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا ہے۔

پولیٹیکل انتظامیہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر کے باہر یہ دھماکہ منگل کی صبح دفتر کے اوقات شروع ہونے کے بعد ہوا۔

دوسری جانب مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب مقامی افسر دفتر سے باہر نکلے تاہم وہ خود اس دھماکے میں محفوظ رہے۔

ایجنسی ہسپتال میں موجود سرجن نے بی بی سی سے گفتگو میں دھماکے میں تین ہلاکتوں اور 30 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ زخمیوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ آج خیبر ایجنسی میں پولیو کے خلاف مہم کا آغاز ہونا تھا۔

خیبر یجنسی کی تحصیل جمرود کے تحصلل دار نیک محمد نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اورکزئی کو بتایا کہ خودکش حملہ آور نے تحصیل ہیڈکوارٹر کے دفاتر کے گیٹ پر حملہ کیا، جہاں تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے اسے روکنے کی کوشش کی جس پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

انھوں نے دھماکے میں خاصہ دار فورس کے ایک اہلکار اور دو عام شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق بھی کی۔

ادھر سرکاری ٹی وی نے دھماکے میں پانچ ہلاکتوں کی خبر دی ہے۔

دھماکے کے مقام کے قریب ہی ایک دیسی ساختہ بم بھی نصب کیا گیا تھا جسے فورسز کی جانب سے بعد میں ناکارہ بنا دیا گیا۔ یہ دھماکہ تحصیل ہیڈکوارٹر کے دفاتر کے قریب مرکزی شاہراہ پر ہوا ہے جو پشاور اور افغانستان کو باہم ملاتی ہے۔

Comments are closed.