’ایران کے ساتھ تعلقات میں پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا

’ایران کے ساتھ تعلقات میں پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا
برطانوی سیکریٹری خارجہ فلپ ہیمنڈ نے کہا ہے کہ برطانیہ ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے لیکن اسے ’پھونک پھونک کر قدم رکھنا‘ ہو گا۔

انھوں نے یہ بیان تہران میں ایرانی صدر حسن روحانی کے ساتھ ملاقات سے قبل دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عدم اعتماد کے ورثے‘ کے باوجود ایران ’انتہائی اہم‘ ہے اور اسے تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔

فلپ ہیمنڈ نے بی بی ریڈیو فور کے پروگرام ٹوڈے کو بتایا کہ دونوں ممالک شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف بھی اکٹھے کام کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اتوار کو تہران میں چار سال بعد برطانوی سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

سنہ 2011 میں ایران پر برطانیہ کی جانب سے پابندیاں لگائے جانے کی وجہ سے برطانوی سفارت خانے پر مظاہرین نے حملہ کر دیا تھا، جس کے بعد اسے بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم برطانوی حکومت نے گذشتہ برس یہ اشارہ دیا تھا کہ اس کا ارادہ ہے کہ تہران میں برطانوی سفارت خانہ پھر سے کھول دیا جائے۔

فلپ ہیمنڈ سنہ 2003 کے بعد ایران کا دورہ کرنے والے پہلے برطانوی وزیرخارجہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اور برطانیہ کے تعلقات کی ایک ’مشکل تاریخ‘ رہی ہے لیکن تعلقات میں تواتر بہتری آئی ہے اور سفارت کاری کا دوبارہ آغاز ’ایک سمجھ دارانہ قدم‘ ہے۔

’ہمیں احتیاط سے چلنا ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی گہری وراثت پائی جاتی ہے، اور کئی ایسے معاملات ہیں جہاں ہماری پالیسی میں فرق پایا جاتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمیں بات چیت نہیں کرنا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا: ’ہمیں افغانستان اور یورپ کے درمیان افیون کی ترسیل کی روک تھام کے لیے آنکھیں ملانا ہوں گی۔‘

Comments are closed.